پٹنہ:وزیراعلیٰ نتیش کمارآج 4 دیش رتن مارگ واقع وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ احاطہ میں منعقد ’جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ‘پروگرام میں شامل ہوئے ۔ ۔ ’جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ‘پروگرام میں ریاست کے متعدد اضلاع سے پہنچے 135 لوگوں کے مسائل کو سنا اور متعلقہ محکموں کے حکام کو حل کے لیے مکمل کارروائی کر نے کی ہدایت دی ۔ آج ’جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ‘پروگرام میں صحت محکمہ ، تعلیم محکمہ ،سماجی بہبود محکمہ، پسماندہ اور انتہائی پسماندہ بہبود محکمہ ، ایس سی ، ایس ٹی بہبود محکمہ ،اقلیتی فلاح محکمہ ،سائنس اور ٹیکنا لوجی محکمہ ، اطلاعات و ٹیکنا لوجی محکمہ ، فن و ثقافت اور یوتھ محکمہ ، فائنانس ، لیبر وسائل محمہ اور جنرل اڈمنسٹریشن محکمہ کے معاملوں پر سماعت ہوئی ۔
ہم لوگ چاہتے ہیں کہ ذات پر مبنی مردم شماری ہو جائے، یہ مرکزی حکومت پر منحصر ہے: نتیش
ارول سے آئے ایک ٹیچر نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ ہم کانٹریکٹ ٹیچر ہیں ہماراکہیں دوسری جگہ پر ٹرانسفر ہو گیا ہے ۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب آپ کانٹریکٹ ٹیچر نہیں ہیں بلکہ ٹیچرہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے ٹیچر کی شکایت پر محکمہ تعلیم کے افسران کو اس معاملہ میں کارروائی کر نے کی ہدایت دی ۔ ایک شخص کی شکایت تھی کہ اس کی بیوی کو کورونا ہو گیا تھا ، اسوقت وہ اسے لے کر دہلی چلا گیا ، جہاں ان کی بیوی کی موت ہو گئی ۔ جب بیوی کی موت کے بعد معاوضہ کے لیے درخواست دی گئی تو بتا یا گیا کہ موت بہار سے باہر ہوئی ہے ، اس لیے معاوضہ کا التزام نہیں ہے ۔شکایت سننے کے بعد وزیر اعلیٰ بھی حیران رہ گئے انہوں نے کہا کہ خاتون کی موت بھلے ہی بہار سے باہر ہوئی ہے ، لیکن وہ بہار کی رہنے والے ہی ، ایسے میں معاوضہ ملنا چاہئے ۔وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر صحت محکمہ کے افسران کو ہدایت دی کہ اس بارے میں مناسب کارروائی کریں۔
بانکا ضلع کے شنبھو گنج بلاک سے آئی ایک لڑکی نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ ہم بی اے پاس ہیں ، اس کے بعد بھی مجھے حوصلہ افزا رقم نہیں ملی ہے ۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے فوری کارروائی کی ہدایت دی ۔ کٹیہار سے پہنچے ایک شخص نے مدرسہ بورڈ سے متعلق شکایت کی ۔ اس کا کہنا تھاکہ مدرسہ بورڈ میں اس کا سلیکشن ہوا ،لیکن اسے ابھی تک منظوری نہیں ملی ہے۔ اس پروزیر اعلیٰ نے افسران کو مناسب کارروائی کر نے کی ہدایت دی ۔ ایک لڑکی نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ اس کی ٹیم میں 10لڑکیاں ہیں اور سب نے مل کر جہیز کی روایت اور کمسنی میں شادی پر کام کیا تھا ،لیکن ابھی تک لوگوں کو کام کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے ۔ اس معاملہ کے تعلق سے وہ لوگ جہاں بھی جاتی ہیں ان سے یہی کہا جاتا ہے کہ ادائیگی کر دی جائے گی ۔ اس پروزیر اعلیٰ نے جانچ کر کے مناسب قدم اٹھانے کی ہدایت دی ۔
بھوجپور سے آئے ایک فریادی نے جنتا دربار میں کہا کہ اس نے 2016 میں سہارا انڈیا میں پیسہ جمع کیا تھا لیکن اس کا پورا پیسہ ڈوب گیا ۔ یہ سنتے ہی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سہارا انڈیا تو پرائیوٹ بنک ہے پر ائیوٹ بنک میں پیسہ کیوں جمع کیے تھے وزیر اعلیٰ نے اس معاملہ میں بھی افسران سے ضروری کارروائی ہدایت دی ۔
بیگوسرائے کے خداوند بلاک کے راجو کمار معذوری سرٹیفکیٹ کے سلسلہ میں تو گوپال گنج کی مسز سونی کماری بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ کی تیسر قسط کے نہیں ملنے کی شکایت لے کر پہنچی ۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکمہ کو اس میں حل کی ہدایت دی ۔مغربی چمپارن کے یوگپٹی کے مسٹر نثار احمد نے روزگار قرض نہیں ملنے کے بارے میں تو پورنیہ ضلع کے بڑہارا بلاک کے مسٹر گورو کمار سنگھ فیزیکل ٹیچر اور ہیلتھ انسٹرکٹر کی بحالی کے بارے میں تو نالندہ ضلع کے رہوئی بلاک کی کرن کماری نے آنگن باڑی میں بحالی میں بدعنوانی کے بارے میں اپنی شکایت کی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکمہ کو مکمل کارروائی کر نے کی ہدایت دی ۔
پٹنہ ضلع کے مسوڑھی بلاک کے اشونی کمار نے عام لوگوں سے جڑے مسائل کے حل کے بارے میں اپنی بات رکھی تو وہیں پٹنہ صدر کے کیسری کشور نے سال 2015میں زلزلہ کے سبب مکان کے دھس جانے کا معاوضہ اب تک نہیں ملنے کے بارے میں شکایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکہ کو اس کے حل کے لیے ہدایت دی ۔
’جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ ‘پروگرام میں آج 134 درخواست دہندگان آئے تھے ،جن میں سے 25خواتین اور 109مرد تھے ۔
’جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ پروگرام‘ میں نائب وزیر اعلیٰ تاکیشور پرساد ، تعلیم کے وزیر وجئے چودھری ، صحت کے وزیر منگل پانڈے، سماجی فلاح کے وزیر مدن سہنی ، لیبر وسائل کے وزیر جیویش کمار ، ایس سی ، ایس ٹی کے وزیر سنتوش کمار سومن ، اطلاعت و ٹیکنا لوجی کے وزیر سمیت کمار سنگھ ،فن و ثقافت و نوجوان محکمہ کے وزیر آلوک رنجن ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر دیپک کما ر،چیف سیکریٹری مسٹر تریپوراری شرن ، ڈی جی پی مسٹر ایس کے سنگھل ،وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر چنچل کمار ،وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری مسٹر انوپم کمار ، محکمہ محکموں کے اڈیشنل چیف سیکریٹری پرنسپل سکریٹری ،سیکریٹری ،وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی مسٹر گوپال سنگھ ،متعلقہ محکمہ کے دیگر سینئر افسران ، پٹنہ کے ڈی ایم مسٹر چندر شیکھر سنگھ ، ایس ایس پی مسٹر اوپندر شرما موجود تھے ۔
جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ ‘پروگرام کے بعد صحافیوں کوخطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کی تاریخ کو بہار میں ”یوم ارض “(پرتھوی دیوس)کی شکل میں منا یا جاتا ہے ۔ سال 2011 سے بہار میں یوم ارض منانے کی شروعات کی گئی ۔ بہار سے جھارکھنڈ کے الگ ہو نے کے بعد درخت کے بارے میں کبھی سروے نہیں کرا یا گیا تھا ۔ بہار اور جھارکھنڈ جب ایک تھے تو جھارکھنڈ کے علاقہ میں درخت زیادہ تھا ۔ ہم نے سروے کرایا تو جھارکھنڈ کے الگ ہو نے کے بعد بہار کا گرین کور 9فیصد ہی تھا ۔ انہوں نے کہا کہ 2011 میں ہم نے یوم ارض منا نا شروع کیا اور اس کے تحت بڑے پیمانے پر شجر کاری شروع کی ۔
اس کے تحت ہم نے 24کروڑ درخت لگانے کا نشاتہ متعین کیا ۔اس سلسلہ میں مسلسل مہم چلائی جارہی ہے ۔ہریالی مشن کے تحت تقریبا 22کروڑ پودے لگائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 2019 میں جل ،جیون ،ہریالی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے تحت 11نکات طے کیے گئے ہیں جس میں سے ایک ہے بڑے پیمانے پر شجرکاری ۔ ہم لوگوں نے بہار کا گرین کوور کم سے کم 17 فیصد کر نے کا نشانہ متعین کیا ۔ اس سلسلہ میں مسلسل مہم چلائی جارہی ہے ۔ گزستہ سال 2کروڑ 51لاکھ درخت لگانے کا نشانہ رکھا گیا تھا ،لیکن نشانہ سے زیادہ تقریبا 3کروڑ95لاکھ شجر کاری کرائی گئی ۔ اس سال 5کروڑ شجر کاری کا نشانہ متعین کیا گیا ہے ۔ابھی تک 3کروڑ 15 لاکھ پودے لگائے جاچکے ہیں ۔ مسلسل مہم چلاکر ہم لو گ اس سال 5کروڑ شجر کاری کے لیے نشانہ کو مکمل کریں گے ۔
آج یوم ارض کو بھی ہم لوگوں نے شجر کاری کی ہے ۔5جون سے شجر کاری مہم کی شروعات کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کی کو شش ہے کہ بہار کے گرین کوور کو کم سے کم 17فیصد تک پہنچادیں اور اس میں مزید اضافہ کریں ۔ بہار کا رقبہ محدود ہے لیکن آبادی بڑھتی جارہی ہے ۔ سڑکوں کے کنارے میں شجر کاری کی جارہی ہے ۔ اب کہیں پر جانے پر پہلے کے مقابلہ میں زیادہ درخت نظر آتے ہیں ۔شجر کاری کا نشانہ حاصل کر لینے کے بعد ماحولیات میں توازن ہو گا ۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے یہ مہم چلائی جارہی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی پانی کے تحفظ کے بارے میں بھی کام چل رہا ہے ۔پانی اور ہریالی ہے توہی زندگی محفوظ ہے ۔ڈیڑھ سال سے جار ی کورونا کے دور کے باوجود بہت بڑے پیمانے پر شجر کاری کا کام چلایا جا رہا ہے ۔ جل ،جیون ،ہریالی مہم کے سلسلہ میں بھی باقی کا مسلسل کیے جارہے ہیں ۔
ذات پر مبنی مردم شماری کے بارے میں میڈیا اہلکاروں کے سوال کا جوال دیتے ہوئے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کا مکتوب وزیر اعظم کے دفتر کو 4اگست کو موصول ہو چکا ہے ۔ابھی تک اس کا جواب نہیں آیا ہے ۔ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ ذات پر مبنی مردم شماری ہو جائے ۔ یہ مرکزی حکومت پر منحصر ہے ۔یہ ہم لوگوں کا پرانامطالبہ ہے ۔ہم پہلے بھی اس بارے میں اپنی باتوں کو رکھتے رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ تمام لوگو معلوم ہے کہ سال2019 میں بہار اسمبلی اور بہار قانون ساز کونسل سے اتفاق رائے سے اس بارے میں تجویز پاس کی گئی ۔اس کے بعد سال 2020 میں اسمبلی سے ایک بارپھر اتفاق رائے سے تجویز پاس کی گئی ۔ ہم لوگوں کی خواہش ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری ہو ۔ اس کا بہت فائدہ ہو گا ۔ایک مرتبہ ذات پر مبنی مردم شماری ہو نے سے ایک ایک چیز کی جانکاری ہو جائے گی کہ کس ذات کی کتنی آبادی ہے اس کی جانکاری ہو نے سے ڈیولپمنٹ کے منصوبو ں کا فائدہ تمام لوگوں کو ملے گا ۔یہ سب کے مفاد میں ہے ۔ ہم لوگوں کی خواہش ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری ہو ،آگے یہ مرکزی حکومت کا کام ہے ۔ اگر وزیر اعظم وقت دیں گے تو ہم لوگ ضرور ملاقات کر کے اپنی باتوں کو کہیں گے ۔ اس کا تعلق سیاست سے نہیں ہے بلکہ سماجی معاملے سے ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف بہار میں ہی نہیں کئی دیگرریاستوں میں ذات پر مبنی مردم شماری کے تعلق سے بات ہو رہی ہے ۔ اس بارے میں ہماری پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے خط لکھا تھا تو ان کی ملاقات وزیر داخلہ جناب امت شاہ سے ہوئی تھی ۔ ممبران پارلیمنٹ نے وزیر داخلہ سے ملاقات کر کے اپنی باتوں کو کہہ دیا ہے ۔بہار کی اپوزیشن پارٹیوں کی بھی خواہش تھی کہ ہماری قیادت میں چل کر وزیر اعظم جی سے ملاقات کی جائے ۔ اس بارے میں ہم نے وزیر اعظم جی کو خط لکھا ہے ۔ ذات پر مبنی مردم شماری کے بارے میں فیصلہ کر نا مرکزی حکومت کا معاملہ ہے ہم لوگ اپنی خواہش ظاہر کر تے رہے ہیں ۔ سماج کے مفاد میں یہ بات ہے ۔مرکز سے جواب نہ آنے کی حالت میں کیا بہار حکومت اپنی سطح سے ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی ۔ میڈیا کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بارے میں یہاںسبھوں سے بات کی جائے گی ۔ مردم شماری پورے ملک میں ایک ساتھ ہو تی ہے ۔ اس سے پہلے جانکاری کے لیے ذات کی شماری کی جائے تو اس بارے میں تمام سے بات کی جائے گی ۔ ہم نے ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے ۔ ہم لوگوں کی خواہش ہے کہ پورے ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری ہو جائے ،یہ بہت بہتر ہو گا ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 1931 میں آخری مرتبہ ذات پر مبنی مردم شماری ہوئی تھی ، اسے ایک بار پھر کرانا ملک کے مفاد میں ہے ، یہ سب کے مفاد میں ہے ۔ لوگوں کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے ۔ترقیات کا فائدہ تمام کو ملنا چاہئے ۔ ذات کے اعداد و شمار ایک بار سامنے آجانے کے بعد سب کے فائدہ کے لیے کام ہو گا ۔ یہ قوم اور ملک کے مفاد میں ہے ۔ یہ کسی خاص شخص کے مفاد کی بات نہیں ہے ۔
بہار میں ٹیکا کاری سے متعلق میڈیا اہلکاروں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں پوری مضبوطی کے ساتھ ٹیکا کاری کا کام چل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 6مہینے میں 6کروڑ ٹیکہ کاری کے نشانہ کو ضرور حاصل کریںگے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ شروع میں ہم نے ویکسن خریدا تھا لیکن بعد میں وزیر اعظم جی کے اعلان کے مطابق مرکزی حکومت کے ذریعہ ویکسن مہیا کرائی جارہی ہے ۔ بہار میں ویکسنیشن کا کام بہت بہتر طریقہ سے ہو رہا ہے ۔ ٹیکا کاری بہت ہی ضروری ہے ۔ صرف ٹیکا کاری ہی نہیں بہار میں کورونا کی جانچ بھی بڑی تعداد میں کرائی جارہی ہے ۔ کورونا کی روک تتھام کے لیے ٹسٹنگ بھی بہت ضروری ہے ۔ کم سے کم 2لاکھ سیمپل یومیہ جانچ کر نے کو کہا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو حفاظت کے لیے ٹیکا کاری اور دوسری طرف جانچ بھی ضروری ہے ۔ یہ سب کام کیے جارہے ہیں ۔ پوری حکومت ،انتظامیہ سب مل کر اس کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ 18سال سے کم عمر والوں کا یا 12 سال سے اوپر کی عمر والوں کی ٹیکا کاری کا اگر فیصلہ ہو تا ہے تو وہ بھی کیا جائے گا ۔
مسٹر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ کو پارٹی کا قومی صدر بنائے جانے پر پارٹی کے اندر کسی طرح کا اختلاف کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے ۔ ہم لوگوں کی پارٹی میں آر سی پی سنگھ کو قومی صدر کی ذمہ داری دی گئی اور وہ کام کر نے لگے ۔ جب وزیر بن گئے تو انہوں نے کہا کہ اب للن جی بن جائیں تو زیاہ بہتر ہے ۔ قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں للن سنگھ کو قومی صدر بنا نے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ہم لوگوں کی پارٹی میں تمام لوگوں میں اتحاد ہے ۔کہیں کوئی گروپ نہیں ہے ۔ مسٹر للن سنگھ سینئر آدمی ہیں ۔ جب سمتا پارٹی بنی تھی ، اس وقت سے یہ ہیں ،بلکہ اس سے پہلے بھی تھے ۔ پارٹ میں تمام لو گ کام کررہے ہیں ،کہیں کوئی دشواری نہیں ہے ۔
یوپی میں جے ڈی یو کے انتخاب لڑنے کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری پارٹی کی ہرجگہ ونگ ہے ۔ ابھی ہماری پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ تھی اس میں بھی لوگوں نے خواہش ظاہر کی تھی ۔ یہ تو قومی مجلس عاملہ کا کام ہے ۔ اتحاد یا الگ لڑنے کے بارے میں پارٹی کے لوگ فیصلہ کریں گے ۔ یوپی میں 200 سیٹوںپر لڑنے کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ یوپی میں انتخاب کی تشہیر میں جانے کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ابھی تو اس کے بارے میں ایک ایک چیز پر فیصلہ ہو گا جو آپ لوگوں کے سامنے آئے گا ۔
پٹنہ کے آینشا کو 16کروڑ روپے کا انجکشن کے سلسلہ میں حکومت کے ذریعہ مدد کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے سنا ہے ، سب لوگ مدد کررہے ہیں ،ہم لوگوں نے بھی کہا کہ مدد کیجئے ، لیکن حکومت کی اس میں کوئی اسکیم نہیں ہے ۔آپ جانتے ہیں کہ ہم لوگ زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کی اسکم بنائے ہوئے ہیں وہ سب کو معلوم ہے ۔ سب لوگ اپنے اپنے طریقہ سے مدد کریں کے تو بچے کے لیے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے ۔
منڈل کمیشن کے باقی سفارشات کو نافذ کر نے کے سوال کے جوا ب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ تو گورنمنٹ کا کام ہے ۔ ایک اہم سفارش تھی ریزر ویشن ، وہ توپہلے سے نافذ ہو چکا ہے ۔ اس کے علاوہ اور جو کچھ بھی غریب غربا طبقوں کی ترقی کے لیے کرنا ہے وہ دیکھنے والی بات ہے ۔ جب سے بہار کے عوام نے خدمت کر نے کا موقع دیا ہے ، اس وقت سے ہم لوگوں نے خواتین ، ایس سی ، ایس ٹی ، اقلیتی طبقہ ، انتہائی پسماندہ اور دیگر تمام طبقوں کے لیے کام کر تے ہیں ۔ ان کے لیے خصوصی تیاری پر بہت سار ے منصوبے بنائے گئے ۔مہا دلتوں ، دلتوں کے لیے بھی منصوبہ بنا یا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوشل وکاس اور تمام لوگوں کے لیے تعلیم اور لوگوں کی ترقی کے لیے ہم لوگ مسلسل کام کررہے ہیں۔
