کتاب:- ( ہو نگاہِ کرم)
مصنف:- بلال رازؔ
سن اشاعت:- 2022
قیمت:- 150
تعداد:- 400
رابطہ:- 8954567427

نعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی تعریف و توصیف کے ہیں لیک عربی ،فارسی،اردو اور مسلمانوں کی دوسری زبانوں میں لفظ نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف اور مدح کے لئے مخصوص ہے۔ جب ہم نعت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ پارۂ شاعری ہے جس میں سرور کونین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات کی توصیف و مدح کی گئی ہو
نعت گوئی کا آغاز سب سے پہلے عربی زبان میں ہوا اور عربی سے اس کا رواج فارسی ،اردو ، اور دیگر دوسری زبانوں میں ہوا۔دیگر اصناف شاعری میں بحر و اوزان کے مختلف زحافوں میں لفظوں کے دروبست سے کام چل جاتا ہے لیکن نعت واحد موضوع ہے جو اپنے دامن پر ذرہ برابر دھبہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔سخنوروں کو دوران تخلیق دماغ کی ساری قوتیں لگانی پڑتی ہیں۔ ان کی ذرا سی بے احتیاطی تمام ریاض و کاوش کا خون کرسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اردو کی نعتیہ شاعری کو ہر دور میں حسان بن ثابت،خاقانی،فردوسی،سعدی،نظامی،قدسی،عرفی،جامی اور رومی جیسے عظیم المرتبت شاعروں کی تلاش رہی ہے کہ انھوں نے سرکار دوعالم کی عقیدت و محبت میں جنم لینے والے پاکیزہ خیالات و افکار کو تخلیقی عمل کی تکمیل تک معبود و عبد ،وحدانیت و عبودیت ،خلاقیت،بشریت اور فطرت و نفسیات آدمیت میں فرق، توازن، رتبے اور مقام کا ہر لحمہ خیال رکھا ہے۔
نعت گوئی اردو شاعری کی اعلیٰ ترین قدروں میں شمار ہوتی ہے۔اس کا تعلق چونکہ اس ذات اقدس سے ہے جس ذات اقدس نے صدیوں کی تاریک دنیا کو انسانیت اور تہذیب کے سورج کا اجالا بانٹا جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے نعت گوئی یوں تو بہت آسان لگتی ہے لیکن غور سے دیکھئے تو بہت مشکل کام ہے ۔چونکہ شاعر کو نعت کہتے وقت اس کا خاص ادب و احترام و لحاظ رکھنا بے حد ضروری ہے کہ آداب شریعت بھی اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹیں اور آدابِ عشقِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے دل و دماغ مامور رہے
دیگر زبانوں کی طرح اردو شاعری کو بھی نعت گوئی میں ممتاز مقام حاصل ہے اور اردو شعرا ء نے اس صنف میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔
نعت گوئی کا سفر عرب سے ایران اور پھر ہندوستان تک پہنچا۔حضرت امیر خسرو،حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز، قلی قطب شاہ،ولی دکنی،سراج اورنگ آبادی،امیر مینائی اور محسن کاکوروی سے لیکر الطاف حسین حالی ، ڈاکٹر علامہ اقبال،امام احمد رضا خان بریلوی،مولانا ظفر علی خان،محمد علی جوہر،حفیظ جالندھری اور ماہر القادری تک نے نعت گوئی میں نئے نئے مضامین کا اضافہ کیا۔

بی۔ اے۔ شعبہ اردو ،راجندر کالج ،سارن، بہار
بہر حال! نعتِ کے مشہور و معروف شاعر امام احمد رضا خان بریلوی صاحب کی نگری سے ایک نام ادبی افق پر عیاں ہوا ہے جی ہاں میری مراد جناب بلال رازؔ صاحب سے ہے بلال رازؔ کا تعلق اتر پردیش کے بریلی شریف سے ہے آئیے ان کی نعتیہ شاعری کا جائزہ لیں کچھ اشعار سے لطف اندوز ہوں پہلے حمد اسکے بعد نعت ملاحظہ کریں
مری ابتدا ترے نام سے مری انتہا ترے نام سے
کہ ہے انتساب مرے خدا مری زیست کا ترے نام سے
بڑی برکتیں تیرے نام میں بڑی رحمتیں ہیں کلام میں
اسے کیا دواؤں کی ہو طلب جسے ہو شفا ترے نام سے
روداد مرے غم کی سب ان کو سنا دینا
آقا کو خبر میری اے بادِ صبا دینا
آقا کا تصرّف اب خود سوچئے کیا ہوگا
جب ولیوں سے ثابت ہے مردوں کو جلا دینا
نئی نسل کے ابھرتے نوجوان شاعر جناب بلال رازؔ صاحب کا پوسٹ آفس سے آج سے تقریباً دو ہفتہ پہلے ان کا پہلا نعتیہ شعری مجموعہ (” ہو نگاہِ کرم ") عقیدت و محبت و کے ساتھ موصول ہوا۔ جس میں بلال راز کے بارے میں ان کے استاد محترم جناب اسرار نسیمی صاحب اور ان کے مامو جان ڈاکٹر محمد حسن قادری صاحبان نے اپنے اپنے تاثرات پیش کیے ہیں۔۔۔ جو قابلِ ذکر ہے
خیر اس کتاب میں دو حمد ، 60 نعتیں،12منقبت 1 رباعیات 1قطعات 3 تضمینات شامل ہیں ۔ ’ ’ہو نگاہِ کرم‘‘ یہ نعتیہ مجموعہ 400 تعداد پر مشتمل ہے مجلد خوب صورت اشاعت کی گئی ہے جو اتر پردیش اردو اکادمی کے مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے ۔ نامور اہل ِ قلم اور نکتہ داں کے سامنے بندۂ ناچیز کی بات کچھ معنی نہیں رکھتی ۔ مگر جو حکمِ یار ہوا تو چند خلوص کے الفاظ پیش کرتا ہوں۔۔۔
بہر کیف
اصل نام محمد بلال خاں ہے قلمی نام بلال رازؔ سے ادبی دنیا میں معروف ہیں۔ بلال رازؔ کی پیدائش ایک تعلیم یافتہ خاندان میں محمد اسلم خاں کے گھر میں ہوئے جناب کو بچپن سے ہی شعر و سخن سے اور کتابیں پڑھنے کا بہت زیادہ شوق تھا اسی کا نتیجہ ہے کہ نعت کا مجموعہ ( ہو نگاہِ کرم) منظر عام پر آ گیا ہے اور انہوں نے شاعری کا آغاز باضابطہ 2010 سے شروع کر دیا تھا آج بھی جاری ہے آئیے نعت رسول کے چند اشعار دیکھئے
مسکرائے نبی تو ضیا ہو گئی
آپ کی یہ ادا معجزہ ہو گئی
نعت کہہ لی نبی کی ثنا ہو گئی
لو صحابہ کی سنت ادا ہو گئی
فائدہ پھر میری آنکھوں کا نہیں
گنبدِ خضریٰ اگر دیکھا نہیں
یا خدا یا نبی ورد جس نے کیا
اس کی ہر ایک مشکل ہوا ہو گئی
گر ایک شعر بھی میرا قبول ہو جائے
تو نعت گوئی کی محنت وصول ہو جائے
کھڑے ہوئے ہیں گنہگار آپ کے در پر
کرم کی ایک نظر یا رسول ہو جائے
مری اوقات کیا ہے جو نبی کا مرتبہ لکھوں
میں کیا سمجھوں میں کیا جانوں میں کیا سوچوں میں کیا لکھوں
خاکساروں کو ملی شان تری نسبت سے
بے نوا تھے ہوئے سلطان تری نسبت سے
رازؔ یوں تو ہیں ادب میں اور اصنافِ سخن
پر ہمیں نعتِ نبی کی شاعری اچھی لگی
آپ کے نعتیہ اشعار میں ایمان و وجدان اور تصوف و معرفت کی تب و تاب بھی پائی جاتی ہے ۔ لفظ لفظ سے محبت و عقیدت کی ایمان افروز کرنیں پھوٹتی محسوس ہوتی ہیں۔ اشعار میں ایک والہانہ پن ، دامنِ کرم سے وابستگی و قربت کا مخلصانہ اظہار،اسی دیار میں رہ جانے کی ایک خوشگوار کسک ، احترام رسول اور مقام رسالت سے باخبری آپ کی نعتیہ شاعری کے نمایاں عناصر ہیں ۔
اور اب پانچ اشعار مرے پسندیدہ ملاحظہ فرمائیں
چاند ہوگیا ٹکڑے واپس آ گیا سورج
مہر و مہ ہیں آقا کی قدرتوں کے سائے میں
جو نبی کی حرمت پر اپنے سر کٹاتے ہیں
حسرت کر آئیں گے وہ آج عظمتوں کے سائے میں
باپ ماں بہن بھائی دور سب بھگائیں گے
بس حضور محشر میں اپنے کام آئیں گے
کیا عجب سما ہوگا مجرموں کو محشر میں
رب تعالیٰ اللہ پکڑے گا مصطفیٰ چھڑآئیں گے
دل میں حسرت ہے کہ جب نعت پڑھوں محفل میں
راج آواز مری شاہِ ھدیٰ تک پہنچے
بلال رازؔ صاحب کی نعت گوئی روایتی نعت نگاری کے اسلوب کے ساتھ ساتھ جدت و ندرت کی آئینہ دار ہے۔جس کے سبب آپ کے کلام میں تازگی و طرفگی کے گلہاے رنگارنگ قاری و سامع کو براہ راست متاثر کرنے میں مکمل طور پر کامیاب دکھائی دیتے ہیں ۔ رازؔ صاحب کی نعت گوئی عقیدے و عقیدت دونوں کی ترجمانی کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی محتاط محبتوں کا مخلصانہ اظہاریہ ہے ۔جو ہر اعتبار سے لائق تحسین و آفرین ہے۔
تین شعر اور دیکھیں
نبیوں میں سب سے آخری سرکار آپ ہیں
پھر بھی تمام نبیوں کے سردار آپ ہیں
جو چاہیں جس کو چاہیں عطا کردیں یا نبی
دونوں جہاں کے مالک و مختار آپ ہیں
نعتِ رسول رازؔ نہیں عام شاعری
شامل ہے نعت کوئی بھی کار ثواب میں
بلال رازؔ صاحب نے بڑی سادگی و صفائی اور صداقت و سچائی کے ساتھ سلیس و رواں اور سہل و آسان زبان میں اپنا نذرانۂ عقیدت و محبت بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کرتے ہوئے نعت کے بڑے اچھے ، صاف ستھرے ، خوب صورت ، دل کش اور دل نشین متاثر کُن اشعار زیب قرطاس کیے ہیں ۔ میں جناب بلال رازؔ صاحب کو اُن کے اولین نعتیہ مجمو عۂ کلام (ہو نگاہِ کرم) کی اشاعت پر انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دعا گو ہوں اللہ تعالیٰ زور قلم اور زیادہ عطا فرمائے۔۔۔آمین ثم آمین یا ربّ العالمین
اب میں بلال رازؔ صاحب کے ہی ایک بہترین شعر پر اپنے مضمون کا اختتام کرتا ہوں
دونوں عالم میں ہوتا ہے ذکرِ نبی
دونوں عالم میں چرچا ہے سرکار کا