1 جولائی کی تاریخ ہر سال عظیم قومی رہنما عبدالقیوم انصاری کی یوم پیدائش کے تعلق سے ان کی یاد کا دن ہے اور سال رواں میں آج ان کی یوم پیدائش ہے۔ ان کی سیاسی سرگرمی بہار تک ہی محدود نہیں رہی۔ وہ قومی سیاست میں بھی متواتر سرگرم رہے۔ ان کے گذر جانے سے ملک کو بڑا صدمہ پہنچا تھا اور ایک عظیم قومی خسارہ ہوا کہ اس سانحہ سے جو خلاءپیدا ہوا وہ اب تک پر نہیں ہو سکا۔ اسے ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی تاریخ ساز شخصیت اور ان کے لازوال کارناموں سے متعلق یہ مقالہ تحریر کیاگیا ۔
1 جولائی کو یوم پیدائش پر مخصوص

تقسیم سے پہلے کے متحدہ ہندوستان اور آزادی کے بعد منقسم ہندوستان میں قریب نصف صدی پر محیط عبدالقیوم انصاری کی سیاسی سرگرمی کی وابستگی ہندوستانی قومیت سے برابر قائم رہی اور اس اعتبار سے سبق آموز رہی اور ہے۔ انہوں نے تقسیم ہند کی شدید مخالفت کی اور قومی سیاست میں وہ حب الوطنی ، قومی پروری اور صحیح و صالح رہنمائی کے جو نقوش چھوڑ گئے جوہمیشہ باقی رہیں گے اور سدا ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔ اور انہوں نے آنے والی نسلوں کے لئے رہنمائی اور آگہی سے ملک و قوم کی ہمہ جہت ترقی اور اسے برقرار رکھنے اور معیاری سیاست کی سمت میں کارآمد اور نتیجہ خیز سرمایہ ثابت ہوگا۔
عبدالقیوم انصاری قومی اتحاد و یکجہتی، ایک قومی نظریہ یعنی متحدہ ہندوستانی قومیت، سیکولرازم کی بقا، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کے استحکام کے لئے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی پیدائش یکم جولائی 1905 کو بمقام ڈہری اون سون ہوئی جو بہارکے قدیمی شاہ آباد ضلع کے بجائے موجودہ رہتاس ضلع میں واقع ہے اور انڈین نیشنل کانگریس پارٹی سے ان کی سیاستی وابستگی رہی۔ وہ کمسنی میں ہی تحریک آزادی سے جڑ گئے۔ انہوں نے حامیوں کے ساتھ ڈہری اون سون کا سرکاری اسکول ترک کیا اور ان طلباءکے لئے وہ ایک قومی اسکول کے قیام میں لگ گئے جنہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے اعلان پر سرکاری اسکول کا مقاطعہ کیا گیاتھا۔ برطانوی حکومت کی مخالفت میں عدم تعاون اور خلافت کی تحریکوں میں حصہ لینے کے باعث انہیں سولہ سالہ کی کم عمر میں ہی گرفتارکرکے سہسرام جیل بھیج دیا گیا۔ ستمبر1920 میں تحریک عدم تعاون سے متعلق کلکتہ میں ہوئے کانگریس کے خاص اجلاس میں وہ سب سے کم عمر کے کانگریس ڈیلیگیٹ کی حیثیت سے شریک ہوئے ۔ انہوں نے 1928 میں کلکتہ میں صرف انگریزوں پر مشتمل سائمن کمیشن کی آمد کے دوران اس کے خلاف ہوئے طلباءکے زوردار احتجاج میں حصہ لیا۔
عبدالقیوم انصاری نے مسلم لیگ کی مسموم فرقہ وارانہ پالیسیوں اور ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے متعلق اس کے مطالبہ کی زبردست مخالفت کی۔ انہوں نے مسلم لیگ کے اس دعوے کی بھی شدید مخالفت کی کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے 1937-38 میںمسلم لیگ کی فرقہ وارانہ پالیسی کے دفعیہ کرنے کے مقصد سے مومن تحریک شروع کی اور پسماندہ مومن جماعت کی سماجی ، سیاسی و اقتصادی فلاح و ترقی او سربلندی کے لئے بھی جو اس وقت ہندوستان کی کل مسلم آبادی نصف تھی مومن تحریک فعال رہی۔
جداگانہ حق رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے 1946 کے بہار صوبائی اسمبلی انتخاب میں عبدالقیوم انصاری اور ان کے پانچ رفقا کار مومن پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے اسمبلی کی چالیس مسلم نشستوں میں چھ پر مسلم لیگ کے خلاف کامیاب ہوئے۔ اس اسمبلی انتخاب میں کانگریس پارٹی صرف ایک مسلم نشست مومن کانفرنس کی حمایت سے حاصل کرسکی تھی۔ نتیجتاً عبدالقیوم انصاری کی بہار کابینہ میں شمولیت واحد مومن اور غیر کانگریسی وزیر کی حیثیت سے ہوئی۔ مولانا ابولکلام آزاد کی منشا اور تجویز کے برخلاف سردار ولبھ بھائی پٹیل کی مداخلت اور حمایت سے صوبہ بہار کی وزارت میں کابینہ کے وزیر کی حیثیت سے محب وطن و قوم عبدالقیوم انصاری کی شمولیت ناگزیر ہوگئی۔
وزیرمقرر کئے جانے کے کچھ عرصہ بعد مومن تنظیم سے صلاح و مشورہ کرکے عبدالقیوم انصاری نے سیاسی تنظیم انڈین نیشنل کانگریس کے عہد نامہ پر دستخط کئے اور مومون کانفرنس کی حیثیت ایک علاحدہ سیاسی تنظیم کی نہیں رہی بلکہ مومن کانفرنس پہلے کی طرح ایک سماجی اور اقتصادی تنظیم بن گئی۔ اذادی کے بعد جداگانہ حق رائے دہی کی جگہ مخلو ط حق رائے بالغان کا نظاف ہوا۔ ملک کے تبدیل شدہ حالات کے مد نظر یہ فیصلہ کرنا صحیح رہا۔ آزاد ہندوستان میں بھی مومن جماعت جو مجموعی آبادی کے نصف حصہ پر مشتمل ہے ملک کی سیاست میں سرگرم رہ سکے گی۔
عبدالقیوم انصاری کی رہنمائی میں آل انڈیا مومن کانفرنس نے مہاتما گاندھی کی رہنمائی میں کانگریس کی حمایت کی۔ انہیں یقین تھا کہ کانگریس ایک متحدہ ہندوستان کی اذادی کے لئے اور سماجی مساوات، سیکولرازم اور جمہوریت کے قیام اور ان کی نشو و نما کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے بنکر جماعت اور دیگر دستکارجماعتوں کی اقتصادی فلاح اور ملک کی صنعت پارچہ بافی میں ہتھ کرگھا (ہینڈلوم) سیکٹر کے فروغ کے لئے بھی کوششیں کیں۔
غیر منقسم ہندوستان کے سیاسی حالات کا مطالعہ کرنے کے لئے سر اسٹیفرڈ کرپس 1939 میں جواہر لال نہرو سے الہ آباد میں آنند بھون میں ملے اور دریافت کیا کہ وہ کون مسلم رہنما ہیں جو مسلم عوام کی ترجمانی اور مسلم لیگ کے خلاف کانگریس کی قومی تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔ جواہر لال نہرو نے کرپس سے جن مسلم رہنماؤں کے ناموں کا ذکر کیا ان میں ایک نام مومن تحریک کے رہنما عبدالقیوم انصاری کا تھا۔ انہوں نے الہ آباد میں آل انڈیا مومن کانفرنس کی جانب سے مومن جماعت کے سیاسی نظریات اور مطالبات کے تعلق سے ایک یادداشت کرپس کی خدمت میں پیش کی تھی۔
عبدالقیوم انصاری کا ایک بہت اہم تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ ان کی رہنمائی میں آل انڈیا مومن کانفرنس نے جو غیر منقسم ہندوستان میں مومن جماعت کے کروڑوں افراد کی نمائندہ تنظیم رہی اعلان کیا کہ مومن جماعت کانگریس کی حمایت کرتی ہے۔ اس سے مسلم لیگ کا دعوی کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے غلط ثابت ہوگیا اور کانگریس کے سیکولر کردار کے مسخ کرنے کی مسلم لیگ کی سعی ناکام ہوگئی جو یہ قیاس کرتی تھی کہ کانگریس ہندؤوں کی تنظیم ہے۔ مومنوں کی حمایت سے کانگریس کی قومی حیثیت قائم اور برقرار رہی۔
عبدالقیوم انصاری کا اہم ترین سیاسی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ملک و قوم کے مفاد میں آل انڈیا مومن کانفرنس کی تنظیم اور مومن تحریک کے ذریعہ مسلم لیگ کی مسموم فرقہ وارانہ پالیسی کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی کے نصف پر مشتمل مومن جماعت کو بیدار اور صف آراءکیا اورقومی تحریک کو مضبوط کیا۔
عبدالقیوم انصاری پہلے ہندوستانی مسلم رہنما تھے جنہوں نے اکتوبر 1947 میں کشمیر پر پاکستانی حملے کی مذمت کی اور پوری طاقت سے مسلم عوام کو بیدار کیاکہ وہ سچے ہندوستانی شہریوں کی حیثیت سے حملے کی مخالفت کے لئے تیار رہیں۔ انہوں نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے 1957 میں انڈین مسلم یوتھ کشمیر فرنٹ قائم کیا۔ اس سے پیشتر انہوں نے ستمبر 1948 کے دوران حیدر آباد کے رضاکاروں کی ہندوستان مخالف بغاوت کے تعلق سے ہندوستانی مسلمانوں سے حکومت ہند کی حمایت کرنے کی تاکید کی۔ وہ ہندوستان کے پہلے رہنما تھے جنہوں نے قیام بنگلہ دیش اور انقراض مشرقی پاکستان کو مسلم لیگ کے دو قومی نظریہ کی نفی وتردید قرار دیا اور کہا کہ پاکستان میں علاقائیت کا جذبہ پنپ رہا ہے اور یہ امکان ہوگیا ہے کہ دو قومی نظریہ تاریخ کے خاکدان کی نظر ہوجائے گا۔ وہ پسماندہ جماعتوں کی تعلیمی اور خواندگی کی مہم سے جڑے رہے اور انہیں کی کوششوں سے 1953 میں حکومت ہند نے پہلے آل انڈیا بیکورڈ کلاسیز کمیشن کی تشکیل کی۔
عبدالقیوم انصاری تقریبا 17 برسوں تک بہار کابینہ میں وزیررہے اور اہم قلمدان وزارت پر فائز رہے اور پوری اہلیت سے اپنی ذمہ داری نبھائی اور بے لوث خدمت و دیانت داری کی مثال قائم کی۔
عبدالقیوم انصاری عوام کے آدمی تھے اور 18 جنوری 1973 کو وہ عوام کی خدمت کرتے ہوئے گذرگئے ۔ جب بہار کے ضلع رہتاس کے امیاور گاؤں میں ڈہری-آرہ نہر کے ٹوٹ جانے سے ہوئے نقصان کا جائزہ لے رہے تھے اور بے خانما ہوئے لوگوں کے لئے راحت کا انتظام کر رہے تھے۔
ہمایوں کبیر نے اپنی کتاب ”مسلم پالیٹیکس 1909 سے 1947 تک“ میں تحریر کیا ہے کہ ”ایک طرح سے مومن انصاری کانفرنس کا ارتقا بڑی اہمیت کا حامل ہوگیا ہے کیونکہ یہ جماعت مسلم لیگ کے خلاف ایسے حربوں کا استعمال کر رہی ہے جنہیں مسلم لیگ کانگریس کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے۔ مومنوں کی تعداد ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں اکثریت کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ امر واقعی بہت اہم ہے کہ مومن جماعت جو مسلمانوں میں انتہائی پسماندہ جماعت ہے، کانگریس کے اغراض و مقاصد سے نہ صرف مکمل ہمدردی رکھتی ہے بلکہ اس کی ہمنوا اور حلیف بھی ہے۔“
عبدالقیوم انصاری مومن جماعت کے ہی رہبر نہیں بلکہ ایک قومی رہنما رہے اور ان کی رحلت پر ان کے سیاستی اور تاریخی وقار کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم محترمہ اندراگاندھی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا تھا” انصاری صاحب کی اچانک وفات کی خبر سن کر مجھے بہت صدمہ پہنچا۔ مومن جماعت جو ایک محنتی اور باصلاحیت طبقہ ہے ایک عرصہ سے اقتصادی پسماندگی کا شکار تھی۔ انصاری صاحب نے بہت زیادہ حد تک ان کے مسائل کو حل کیا۔ لیکن وہ صرف مومن جماعت کے رہبر نہ تھے بلکہ جنگ آزادی کے بطل جلیل اور فرقہ وارانہ طاقتوں کے شدید مخالف ہونے کی حیثیت سے انہوں نے قومی وقار حاصل کیاتھا۔ وہ عوام کے آدمی تھے اور اپنے خلوص و بے لوث خدمت کے لئے کافی مشہور و معروف تھے۔ ان کی وفات سے بہار، ہندوستان اور ہر طبقہ کے عوام نے ایک گرانقدر رہنما کھودیا ہے اور ہم تمام لوگوں نے ایک رفیق گرانمایہ کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہا ہے۔“
آخر میں ملک اور قوم کے لئے عظیم المرتبت تاریخ ساز شخصیت عبدالقیوم انصاری کے لازوال تاریخی کارناموں کے پیش نظر عزت مآب وزیراعظم نریندر مودی سے پرزور گذارش ہے کہ وہ انہیں بعد ازمرگ ’بھارت رتن‘ کے قومی اعزاز سے نوازنے کی خاطر مناسب فیصلہ صادر کرنے پر غور فرمائیں کہ اس ضمن میں بالعموم ہندوستان کے عوام اور بالخصوص ملک کے پسماندہ طبقات کے کثیرالتعداد عوام الناس کی مدتوں سے نظرانداز کی گئی امید اور امنگ کی تکمیل ہوسکے۔
از: حسن نشاط انصاری، سابق پروفیسر، تاریخ (مگدھ یونیورسٹی)
