’’اے نبیﷺ……اورنماز قائم کرو، یقینا نماز فحش اور منکر سے روکتی ہے اوراللہ کا ذکر اس سے بھی بڑی چیز ہے۔اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔‘‘(عنکبوت:۴۵)’’تم مجھے یاد کرومیں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو ، میری نعمت کا انکار مت کرو۔‘‘(البقرہ:۱۵۲)

رابطہ:8298104514
دین اسلام میں نماز کی جو اہمیت ہے،اُس کا صحیح اندازہ اورعلم صرف اُس شخص کو ہو سکتا ہے جوقرآن اور حدیث کا علم اور واقفیت رکھتا ہو۔جس انسان کا شریعت کے احکام اور علم سے کوئی واسطہ ہی نہ ہو وہ نمازی تو بن جا سکتا ہے، لیکن نمازکی دین اسلام میں کیا قدر و قیمت ہے اس کو نہیں جان سکتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔نماز کی پہلی صفت اور پہچان یہ ہے کہ نمازی ہر طرح کے فحش اعمال اور ایسے کاموں سے احتیاط اور پرہیز کرے گاجنہیں گناہ کہا جاتا ہے۔دوسری بات یہ کہ نماز انسان کو اللہ کا ذکر کرنے کا پابند اور عادی بنادیتی ہے۔جب بندہ اللہ کو یاد رکرتا یہ تو اللہ بھی بندے کو یاد کرتا ہے اور ایسا نمازی بندہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب اور بامراد بن جاتا ہے۔ اس بات کو ایسے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ قرآن میں ہر جگہ نماز قائم کرنے کا حکم ہے ، نماز پڑھنے کا نہیں۔نماز پڑھنے میں اور نماز قائم کرنے میں جو فرق ہے وہ قرآن و سنت سے انجان اور بے علم آدمی سمجھ ہی نہیں سکتا ہے۔گویا تقریباً اس وقت کے سارے مسلمان نماز پڑھتے ہیں، لیکن نماز قائم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
نماز کے معاملے میں مجھے کسی تبلیغ اوربیان کی ضرورت نہیں ہے۔قرآن کی آیات نماز کے متعلق وہ باتیں کہہ رہی ہیں جن سے دنیا کا کوئی عالم اور دین کا جاننے والا انکار کر ہی نہیں سکتا ہے۔اس سلسلے میں سور المعارج کی آیات نمبر۱۹ سے۳۵ تک کے مضمون کوپڑھئے۔ قرآن پڑھنے والوں نے ان آیتوں کوپڑھا ضرور لیکن اس کو نہ جا نا نہ سمجھا۔ اور ظاہر ہے کہ جب جانا اور سمجھا ہی نہیں تو پھر اس پر عمل کیسے کریں گے ؟
انسان تھڑدلا(چھوٹے دل والا) پیدا کیا گیا ہے۔(۱۹)جب اُس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے۔(۲۰)اور جب اُسے خوش حالی نصیب ہوتی ہے توکنجوسی کرنے لگتا ہے۔(۲۱)مگر وہ نماز ی لوگ نہیں (۲۲)جو اپنی نماز اداکرنے میں ہمیشہ مستعد رہتے ہیں۔(۲۳)جن کے مال میں حق ہے، (۲۴)سوال کرنے والوں اور محروموںکا ۔(۲۵)جو بدلے کے دن کو حق مانتے ہیں۔(۲۶)جو لوگ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ (۲۷) کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی نڈر ہو۔(۲۸)جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔(۲۹)سوا اپنی بیویوں کے یا اپنی مملوکہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں۔(۳۰)البتہ جو ان کے علاوہ کچھ اور چاہیںوہی حد سے آگے بڑھنے والے ہیں۔ (۳۱)جواپنی امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔(۳۲)جواپنی گواہیوں میں سچائی پر قائم رہتے ہیں۔(۳۳)اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (۳۴)یہی لوگ عزت کے ساتھ جنتوں میں رہیں گے۔(۳۵)
آیت نمبر۱۹سے ۲۱ میں پہلی حقیقت اور صداقت یہ بتائی جا رہی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چھوٹے دل والا پیدا کیا گیاہے۔اُس کے چھوٹے دل اور دماغ کی پہچان یہ ہے کی وہ آرام سے زندگی گزارنا چاہتا ہے۔جیسے ہی کوئی پریشانی یا دشواری سامنے آتی ہے وہ بدحواس ہو کر ہمت ہار بیٹھتا ہے۔اور جب اُس کو خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو اُس کو اللہ کا فضل و انعام سمجھنے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی جگہ اپنے اوپر فخر و غرور کرنے لگتا ہے اور شیخیاں بگھارنے لگتا ہے ۔اور جن لوگوں کو ابھی خوش حالی نصیب نہیں ہوئی ہے اُن کوبد عقل، بے وقوف، نکما او ر ناکارہ سمجھنے لگتاہے۔یہ سب چھوٹے پن کی باتیں ہیں۔دنیا میں چھوٹے دل کے لوگ کوئی بڑا،قابل قدر، فائدہ مند اور یادگار کام کر ہی نہیں سکتے ہیں۔ چھوٹے دل کا آدمی اپنی ذات سے آگے کسی کے بارے میں سوچتا ہی نہیں ہے۔خود غرضی، مفاد پرستی،دولت پرستی اور دنیا داری اُس آدمی کی خاص پہچان ہوتی ہے۔چھوٹے دل کا آدمی سچا نمازی بھی نہیں بن سکتا ہے۔اس بات کو آسانی سے ایسے سمجھا جاسکتا ہے کہ عرب کے لوگ پکے دنیا دار تھے۔مومن نہیں کافر اور مشرک تھے۔چھوٹے دل والے تھے۔ لیکن جب پیارے نبیﷺ نے اُن کو دین کی تعلیم دے کر مومن بنا دیا تو وہ بڑے دل والے بن گئے۔اُن کو اصحاب رسول کا خطاب مل گیا اور پیارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کا بڑ ا سے بڑا عبادت گزار میرے ساتھیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔اور پھر اصحاب رسول نے اسلام کی راہ اللہ کی رضا کی خاطر اور اپنے نبی کی سچی اطاعت میں اسلام کی راہ میں ایسی ایسی قربانیاں دیں کہ قیامت تک ان کی مثال نہیں مل سکتی ہے۔سب کے سب صرف بڑے دل والے نہیںبہت بڑے دل والے بن گئے۔اب قیامت تک دین اور آخرت سے غافل ، دولت اور دنیا کا پرستار انسان سچا اور اچھا نمازی بن ہی نہیں سکتا ہے۔
آیت نمبر۲۲ میں کہ جارہا ہے کہ انسان اپنی فطری کمزوری یعنی چھوٹے دل کا ہونے سے نجات نماز کے ذریعہ سے پاسکتا ہے۔جو نمازی ہوتے ہیں اُن کے اندر یہ خرابی اور برائی نہیں ہوتی ہے۔گویا چھوٹے دل کا نہیں ہونا سچے نمازی کی پہچان ہے۔جو آدمی نمازی ہونے کے بعد بھی چھوٹا دل رکھتا ہے وہ سچا نہیں جھوٹا نمازی ہے۔آیت نمبر ۲۳ میں سچے نمازی کی پہچان یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ نماز کو اپنی سہولتوں کا پابند نہیںبناتے بلکہ خود نماز کے سخت پابند بن جاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی مصروفیت یا فائدہ یا مجبوری اُن کو نماز وقت پر ادا کرنے سے روک نہیں سکتی ہے۔قرآن میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ’’نماز وقت کی پابندی کے ساتھ ایمان والوں پر فرض کی گئی ہے۔‘‘
آیت نمبر ۲۴ میں سچے نمازی کی پہچان یہ بتائی جا رہی ہے کہ اللہ نے اُن کو کم یا زیادہ جتنا بھی مال دیا ہو اُن کا عقیدہ اور یقین یہ ہوتا ہے کہ اس میںاُن کے محتا ج ضرورت مند رشتہ داروں، دوست احباب اور پڑوسیوں کا بھی حق ہے اور اُن کے مسائل حل کرنے کے لئے مال خرچ کرنا بھی ویسے ہی فرض ہے جیسے وقت پر نماز ادا کرنا۔لیکن نمازی ہونے کے بعد بھی بخیل اور خود غرض ہیں جان لیجئے کہ یہ دکھاوے کے جھوٹے نمازی ہیں۔قیامت کے دن اُن کی نمازیں ان کے منہ پر پھینک دی جائیں گی۔
آیت نمبر ۲۵ سے ۲۸ میں بتایا جارہا ہے کہ سچے نمازی آخرت کا پکا پختہ یقین رکھتے ہیں۔یہ جانتے ہیں کہ کسی بھی وقت موت کا فرشتہ آکر اُن کو دنیا سے اپنے ساتھ لے جائے گا۔موت کے بعد نہ اُن کی دنیا داری اُن کے کام آئے گی نہ اُن کا مال اورنہ دنیا والے۔آخرت کے عذاب کا ڈر اُن کو اللہ کی یاد سے اور اُس کے احکام کی پیروی سے غافل نہیں ہونے دیتا۔کیونکہ اللہ کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے انسان غافل ہو جائے۔جو نمازی دنیاداری میں مبتلا ہے اور اُس کو دیکھ کر محسو ہورہا ہے کہ اس کو آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے وہ جھوٹا،فریبی اور منافق نمازی ہے۔اُ س کی دکھاوے کی نماز اُس کو دہرا عذاب دلوائے گی۔
آیت نمبر ۲۹ سے۳۱ تک میں بتایا جارہا ہے کہ شہوانی خواہش جو ہر مرد کی فطری ضرورت ہے اور اُس کی شدت کا یہ عالم ہے کہ آدمی اُس پرقابو پاہی نہیں سکتا ہے۔نکاح کے بعد یہ فطری ضرورت پوری کرنے کا قانونی انتظام ہو جاتا ہے،لیکن بے دین، آخرت سے غافل اور دین و شریعت سے بے پروا آدمی نمازی ہونے کے بعد بھی غیر محرم عورتوں کے چکر میں رہتا ہے اور سوچتاہے کہ گھر کے کھانے پر کب تک راضی رہاجائے۔کچھ تو باہر کا چٹھا مٹھا بھی ملنا چاہئے۔چنانچہ ایسے لوگ جن کو نیک اورنمازی سمجھا جاتا ہے اُن کے دل میں بھی یہ چور سر اٹھاتا رہتا ہے کہ کیسے کسی دوسرے کے باغ کا پھول توڑ لیا جائے۔حالانکہ شریعت نے منکوحہ اور پرانے زمانے میں ملنے والی کنیزوں کے ساتھ شہوانی خواہش پوری کرنے کی قانونی اجازت دے رکھی ہے۔حلال چیز کے استعمال پر کوئی ملامت نہیں کی جاسکتی ہے۔جو مرد شہوانی خواہش حد سے زیادہ رکھتا ہو اور مالدار بھی ہوتو اُس کو چاہئے کہ دو دو تین تین چار چار بیوہ اورمطلقہ جوان لڑکیوں سے نکاح کر کے اپنی ضرورت بھی جائز اور قانونی طور پر پوری کرے اور بے سہارا کا سہارا بھی بن جائے۔
یہ موجودہ بے دین مسلم سماج کسی بیہودہ مرد کی آوارگی پر اعتراض نہیں کرتا لیکن کوئی دین پسند آدمی دوسرا نکاح کر لے تو اُس کو طعنے دیتا ہے۔کہا گیا ہے کہ کسی نامحرم عورت کے بارے میں بری بات سوچنا دماغ کا زنا ہے، اُس کی چاہت دل میں رکھنا، دل کا زنا ہے،اُس کودیکھنے کے لئے پاؤں سے چل کر جانا پاؤںکا زنا ہے۔کسی بہانے سے اُس کو ہاتھ سے چھونا ہاتھ کا زنا ہے۔ اور اُس کو شہوت کے ساتھ دیکھنا نظر کا زنا ہے۔دور حاضر کے بے حیا سماج میں عورتیں جس بے حیائی کے ساتھ ننگی ہو کر بازاروں میں گھرم رہی ہیں،شاید ہی کوئی مرد ہوگا جو زنا کی اس تفصیل کے مطابق زناکاری سے بچ رہا ہوگا۔ایسے لوگوں میں آج کے نمازی بھی شامل ہیں۔لیکن جو سچا اور اصلی نمازی ہوگا وہ ایسی کوئی ذلیل حرکت نہیں کرے گا۔اور اُس کی نظراور اُس کے طور طریقے کو دیکھ کر اندازہ ہوگا کہ واقعی یہ سچا پکا نمازی ہے۔
آیت نمبر ۳۲سے ۳۴ تک میں کہا جارہا ہے کہ سچے نمازی مکمل امانت دار ہوتے ہیں۔جن لوگوں کا اُن سے معاملہ ہوتا ہے، لین دین ہوتا ہے، تعلقات ہوتے ہیں وہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ بہت ہی سچا، وعدے کا پکا اور لین دین میں بالکل صاف ستھرا آدمی ہے۔بات بالکل صاف اور سیدھی کرتا ہے۔ ہمیشہ سچائی ، انصاف اور حق کا ساتھ دیتا ہے، کبھی بھی ظلم، ناانصافی اور جھوٹ کی حمایت نہیں کرتا ہے اور کسی بھی طرح کے گناہ سے اپنی نماز کو داغدار نہیں بناتا ہے تو یہی سچے اور اصلی نمازیوں کی پہچان ہے۔لیکن کسی نمازی کے متعلق معلوم ہوکہ یہ آدمی پیسے کے معاملے میں بے ایمان ہے،دل کا چھوٹا ہے،لینا زیادہ اور دینا کم چاہتا ہے تو پھر یہ ایسا نمازی ہے جس کے نصیب میںدنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں جہنم کی بھڑکتی آگ اس کا مقدر ہے۔
ایسے نمازیوں کے لئے سورہ ٔمنافقون کی آیت نمبر ۶ میں ایک اور دل دہلانے والی بات کہی جا رہی ہے۔’’اے نبیﷺ تم چاہے ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، ان کے لئے برابر ہے،اللہ ہرگز انہیں معاف نہیں کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا۔‘‘(منافقون:۶) یعنی یہ ایسے بد نصیب ہیں جو نبی ﷺ کی شفاعت سے محروم رہیں گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ سنا رہا ہے کہ چونکہ ان لوگوں نے اللہ اور اُس کے رسول سے بغاوت کی ہے اور اپنی نیچ اور ذلیل حرکتوں سے اسلام کی ذلت و رسوائی کا سبب بنے رہے ہیں،اس لئے ان کے اس گھناؤنے جرم کے سبب؎ نبیﷺ کی شفاعت نہ دنیا میں ان کے کام آئے گی نہ آخرت میں ان کی بخشائش کرا سکے گی۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تین آدمی کی نماز اُن کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں اٹھتی۔(یعنی قبول نہیں ہوتی)وہ امام جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں۔ وہ عورت جس کا شوہر اُس سے ناراض ہو۔وہ بھائی جو اپنے بھائی سے تعلق توڑے ہوئے ہو۔(ابن ماجہ)
کیا آج مذہبی جماعتوں کے امیر ایسے ہیں کو عوام اُن سے خوش اور مطمئن ہواور اُنہیں پسند کرتی ہو ؟ جی نہیں ہر جماعت اور تنظیم کا امیر سردار بنے رہنے کے لئے جوڑ توڑ کر رہا ہے اور اپنے مخالفین کے خلاف وہ تمام اوچھی حرکتیں کر رہا ہے جو ایک سچا مسلمان کر ہی نہیں سکتا ہے۔
کیاآج کی بیویاں ایسی ہیں کہ اُن کے شوہر اُن سے مکمل طور پر راضی اور خوش ہوں۔عام آدمی کو تو چھوڑیے، مذہبی رہنما تک کی بیویاں اُن کی نافرمانیوں پر آمادہ اور بے دین ہیں۔طلاق کی ایسی بھرمار ہے کہ ایک مسئلہ حل ہوتا نہیں اور دس مزید مسئلے سامنے آ جاتے ہیں۔دنیا پرستی اور دولت کی ہوس نے بھائی کو بھائی کا دشمن بنا رکھا ہے۔حالانکہ یہ سارے لوگ نماز کے پابند دکھائی دیتے ہیں اور نادان لوگ ان کونمازی اور دین پسند سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ ہرگز سچے نمازی نہیں ہیں۔ ان کی نمازیں صرف دکھاوے کی نمازیں ہیں۔ ان کی نمازیں ان کو دنیا اور آخرت میں فائدے کی جگہ نقصان پہنچائیں گی۔ان کے مقابلے میں سچے نمازی وہ ہیں جن کے اندر قرآن میں بتائی ہوئی خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔
اہانت رسول کے مجرم صرف وہی نہیں ہیں جو شان رسول میں گستاخی کر رہے ہیں،بلکہ ایسے فراڈ نمازی بھی اہانت رسول کے مجرم ہیں جو اپنی خراب اور ناپاک زندگی سے دین، شریعت اور رسول اللہ ﷺ کی محترم ذات کو بدنام کرنے میںلگے ہوئے ہیں۔صارمؔ عظیم آبادی کہتے ہیں:
کیوں امت مرحوم کا یہ حال ہوا ہے
سن لو کہ محمدؐ سے بغاوت کی سزا ہے
سنت سے محبت کی جگہ طرز تغافل
نادان خبر تجھ کو نہیں سخت خطا ہے
اُس بندۂ بدبخت سے اللہ ہے ناخوش
سرکار مدینہ کو خفا جس نے کیا ہے
