پٹنہ: فاروقی تنظیم کے مدیر و مالک ایم اے ظفر صحافت کے دبستان تھے۔ ان کے حیات و کارنامے پر خصوصی کتاب شائع ہونی چاہئے۔ ان کی یاد میں صحافیوں کو ایوارڈ سے بھی نوازا جائے۔
مذکورہ خیالات کا اظہار روزنامہ پیاری اردو کے زیراہتمام سوموار کو یہاں منعقد تعزیتی نشست میں صحافیوں، دانشوروں اور ایم اے ظفر سے وابستہ رہے لوگوں نے اپنے تعزیتی کلمات کے دوران کیا۔ میٹنگ کی صدارت گورنمنٹ اردو لائبریری کے چیئرمین ارشد فیرز نے کی۔ اس موقع پر ایم اے ظفر کے اکلوتے بیٹے اقبال ظفر خاص طور سے موجود تھے۔
اس تعزیتی نشست میں لوگوں نے ایم اے ظفر کی خوش اخلاقی، حسن سلوک اور صحافتی خدمات کا ذکرکیا اور پرنم آنکھوں سے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

تعزیتی نشست کا آغاز ضیاء الحسن حمیدی کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں تعزیتی نشست میں موجود لوگوں نے ایم اے ظفر کے کارہائے نمایاں کا ذکر کیا۔ نشست میں موجود تمام لوگوں نے ان سے اپنی وابستگی اور ان مختلف مواقع پر ان کے ساتھ گذرے لمحات کو یاد کیا۔
گورنمنٹ اردو لائبریری کے چیئرمین ارشد فیروز نے اپنے صدارتی تقریر میں ایم اے ظفر کے ساتھ اپنے رشتے کو یاد کیا اور کہا کہ طالب علمی کے زمانہ سے ہی ان کے تعلقات رہے ہیں اور وہ سبزی باغ واقع گھر پر بھی آیا جایا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے اخبار کو بلندی کے مقام پر پہنچایا۔ صحافت کے شعبہ میں ان کے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ تمام لوگ اردو کا کوئی ایک اخبار خرید کر پڑھیں یہی ظفر فاروقی کو بہترین خراج عقیدت ہوگی۔
روزنامہ پیاری اردو کے ایڈیٹر و سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر اظہار احمد نے ایم اے ظفر سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ جھارکھنڈ سے شائع ہونے والا پہلا اردو اخبار فاروقی تنظیم ہے جس کو ایم علی ظفر فاروقی نے خون جگر سے سینچا. وہ ہمیشہ لوگوں سے خوش دلی سے ملا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک سے قبل میں ان کی مزاج پرسی کے لئے رانچی گیا تھا ان سے کافی دیر تک بات چیت ہوئی۔ ان کے جیسا انسان ملنا مشکل ہے۔ ان کے انتقال سے صحافتی دنیا میں جو خلاء پیداہوا ہے اسے پر کیا جانا مشکل ہے۔
اس موقع پر بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری مشتاق احمد نوری نے کہا کہ ظفر فاروقی نے اپنے اخبار میں کارکن صحافیوں کو لکھنے کی آزادی دے رکھی تھی. ان کی زندگی لوگوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم اے ظفر کو ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنا ہے تو ان کی یاد میں صحافتی ایوارڈ قائم کئے جائیں اور بہار و جھارکھنڈ کے اردو، ہندی کے علاوہ ٹی وی چینل کے صحافی کو ان کی برسی پر ہر سال ایوارڈ سے نوازا جائے۔
سمئے منتھن کے سراج انور نے کہا کہ ایم اے ظفر موجودہ اردو صحافت کے لئے ایک مثال ہیں. نظریاتی اختلاف کے باوجود ظفر علی فاروقی صاحب نے مجھے لکھنے کی آزادی دے رکھی تھی۔ حالانکہ اس آزادی کی وجہ کر کئی موقعوں پر انہیں نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے اپنے قدم کبھی پیچھے نہیں کئے اور اپنے رپورٹر کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ فاروقی تنظیم کا اداریہ ہمیشہ بے باک اور قارئین کی پسند رہا ہے۔
ایم اے ظفر کے بیٹے اقبال ظفر نےکہا کہ میرے والد نے دو تین چیزیں سکھائی ہیں۔ ان میںٰ ایک یہ کہ کسی سے بھی تعلقات منقطع نہیں کرنا۔ خود ترقی کرو تو ان لوگوں کو بھی ساتھ لے کر چلو جو تمہارے ساتھ ہیں۔ دوسری چیز یہ کہ لوگوں کے ہنر و جوہر کو پہچانوں۔ میں کوشش کروں گا کے ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلوں۔
روزنامہ ایک قوم کے ایڈیٹر خورشید اکبر نے کہا کہ ایم اے ظفر سے میں کبھی ملا نہیں لیکن انہوں نے صحافت کے شعبہ میں جو کارنامہ انجام دیا ہے اسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ وہ صحافت کے دبستان تھے۔
نوکرشاہی ڈاٹ کام کے ارشادالحق نے ایم اے ظفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ہماری کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن کسی پروجیکٹ کو لے کر جب میں نے انہیں فون کیا اور اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے برجستہ کہا کہ ‘حق کی بات’؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حالات اور لوگوں پر ان کی گہری نظر تھی جوکہ کسی اور میں ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ پھر ان سے کئی مرتبہ فون پر ہی بات چیت ہوتی رہی۔ ان کی کمی محسوس کی جاتی رہے گی۔ ظفر فاروقی کے اداریئے اور مضامین کو دستاویزی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
اعجاز احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس خبر سے ان کے اخبار کو نقصان ہوسکتا ہے لیکن پھر بھی وہ صحافتی دیانت داری دکھاتے ہوئے اس خبر کو اپنے اخبار میں جگہ دیتے۔

شوکت علی نےکہا کہ طالب علمی کے دور سےان سےمراسم رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ سے خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔
روشنی زندگی کے ایڈیٹر نواب عتیق الزماں نے ایم اے ظفر سے اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بچپن سے ہی ان سے شناسائی رہی۔ وہ ہمیشہ سبھوں کا خیال رکھتے تھے۔
ہمارا نعرہ کے مبین الہدی نے کہاکہ میرے والد شمس الہدی استھانوی کے دور سے ہی ان سے تعلقات رہے ہیں۔ انہوں نے ہم لوگوں کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتر ڈھنگ سے نبھایا۔
روزنامہ تصدیق کے ایڈیٹر ساجد پرویز نے کہا کہ روزنامہ فاروقی تنظیم کے پٹنہ ایڈیشن کے آغاز سے قبل سے میں ان سے وابستہ ہوا اور پٹنہ ایڈیشن کے آغاز کے بعد بھی کئی برسوں تک کام کیا۔ انہوں نے لکھنے کی پوری آزادی دے رکھی تھی۔ انہوں نے کبھی لکھنے والے کا قلم نہیں روکا۔ ان میں ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ وہ کافی تحمل سے کام لیتے تھے۔ کوئی کام بگڑ جانے یا نقصان ہوجانے پر بھی وہ بے چین نہیں ہوتے تھے۔
عزیز تنظیم کے ایڈیٹر انواراللہ نے کہا کہ ایم اے ظفر سے میری بھی وابستگی رہی۔ انہوں نے مجھے فاروقی تنظیم رانچی ایڈیشن میں نہ صرف کام کرنے کا موقع دیا بلکہ کئی اہم ذمہ داریاں بھی مجھے دیں۔
اس موقع پر تعزیت پیش کرنے والوں میں خورشید عالم، نزہت ایڈوکیٹ، پیاری اردو کے راجیش کمار، روزنامہ تاثیر کے امتیاز احمد، شہزادہ، سیف اللہ، الوطن ٹائمز کے اقبال صبا، تنویز احمد کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ کثیر تعداد میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے اس تعزیتی نشست میں حصہ لیا۔
روزنامہ قومی تنظیم کے ایڈیٹر ایس ایم اشرف فرید علالت کی وجہ کر اس تعزیتی نشست میں شرکت نہیں کرسکے تاہم انہوں نےاپنا تعزیتی پیغام بھیجا۔
نظامت کے فرائض پیاری اردو کے اسحاق اثر نے انجام دیئے اور انہوں نے ایم اے ظفر سےاپنے دیرینہ تعلقات کا پرنم آنکھوں سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دورمیں اس طرح کا انسان ملنا مشکل ہے۔ ہر سال 17 اپریل کو ظفر فاروقی کی یاد میں تعزیتی نشست منعقد کی جائے۔
مشتاق احمد نوری کی دعاء پر تعزیتی نشست اختتام پذیر ہوا۔
قابل ذکر ہے کہ اتوارکو گیا میں بھی ایم اے ظفر کی یاد میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس میں صحافت کے شعبہ میں ان کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کا انعقاد بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے سابق ایڈمنسٹریٹر سید شارم علی، سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ منہاج الرشید اور سماجی کارکن وسیم نیئر انصاری نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔